20 فروری 2011 - 20:30

لیبیا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عوام نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرلیا ہے اور عوام کا اجتماع قذافی کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی بڑی تعداد عوام سے آملی ہے اور تھانے بند کردئے گئےہیں۔ طرابلس میں سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کردیا گيا ہے۔ دوسرے بڑے شہر بن غازی کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی عوام کے کنٹرول میں ہے۔ عوام نے بن غازی میں بعض حکام اور قذافی کے آلہ کاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔لیبیا کا شہر بن غازی بھی حکومت کے کنٹرول سے نکل گيا ہے اور عوام نے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق فوج بھی مظاہرین کے ساتھ مل چکی ہے اور شہر پر کنٹرول حاصل کرنے میں عوام کی مدد کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوج کے افسروں کی ایک تعداد بھی عوام سے مل چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیبیا کا شمال مغربی صوبہ بنی ولید بھی حکومت کے ہاتھ سے نکل گيا ہے اور عوام نے اس پرقبضہ کرلیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ لیبیا کے دوبڑے قبیلوں نے عوام کی حمایت کرتےہوئے ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ دوبڑے قبیلوں ترھونہ اور ورفلہ طرابلس کی ایک تہائي آبادی کو تشکیل دیتےہیں۔ لیبین فوج میں زیادہ تر تعداد ترھونہ قبیلے کے افراد کی ہے۔ دریں اثناء لیبیا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق انقلابی عوام نے صدر مقام تری پولی میں لیبیاکے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت میں آگ لگادی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق لیبیامیں عوامی احتجاج جاری ہے ۔لیبین سکیورٹی فورسس نے عوامی احتجاج کو کچلنے کے نہایت تشدد سے کام لیا ہے، ایک اطلاع کے مطابق لیبین فوج نے مظاہرین پر مشین گنوں سے فائرنگ کی ہے۔ ادھر علماۓ اسلام کی عالمی مجلس کے سربراہ علامہ قرضاوی نے کہا ہےکہ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی آمریت کے دن ختم ہوچکے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ یوسف قرضاوی نے کہاکہ قذافی نے اپنے عوام کو خاک وخون میں غلطاں کرکے اپنی نابودی خریدی ہے اور لیبیا کی قوم کو چاہیے کہ وہ قذافی پر مقدمہ چلاکر اسے کیفر کردار تک پہنچائے اور لیبین قوم کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ شیخ قرضاوی نے کہا کہ قذافی لیبیا کو اپنی ملکیت سمجتھا ہے اور اسے قوم کی کوئي فکر نہيں ہے ۔ شیخ قرضاوی نے کہا کہ لیبیا کے عوام کو صبر واستقامت سے کام کرنا چاہیے اور علما، ججوں، اور یونیورسٹی کے اساتذہ کو عوام کےساتھ مل کر قذافی کے خلاف قیام کرنا چاہیے ۔ یاد رہے لیبیا میں عوامی مظاہروں میں جو جمعرات سے شروع ہوئےتھے دوسو افراد مارے جاچکے ہیں ۔ دریں اثناء ونزوئیلا کے حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہےکہ اس نے لیبیاکے صدر کو پناہ دینے کا معاھدہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ قذافی لیبیا سے فرار ہوکر ونزوئيلا یا برازیل چلے گئےہیں لیکن ونزوئيلا نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110